زندگی بڑی عجیب ہے
کبھی گُلزار سی کبھی بیزار سی
زندگی اچھی چیز ہے کیونکہ یہ بس ایک بار ملتی ہے
بار بار اس عذاب سے گزرنا نہیں پڑتا
معصوم بچپن گمراہ جوانی محتاج بڑھاپا
بے رحم موت بس یہی زندگی ہے پیارے
اے زندگی بہت غور کیا ہے میں نے تجھ پر
تو رنگین خیالوں کے سوا کچھ بھی نہیں
مرتا نہیں ہے کوئی کسی کے بغیر یہ حقیقت ہے زندگی کی
لیکن صرف سانس لینے کو ہی تو جینا نہیں کہتے
خوبصورت زندگی کے راز
دعا کیجیے دعا لیجیے دعا دیجیے
زندگی آ میں تجھے گلے لگاتا ہوں
تو ستم کرتا جا میں اپنا صبر آزماتا ہوں
زندگی جب دیتی ہے تو احسان نہیں کرتی
مگر جب لیتی ہے تو لحاظ نہیں کرتی
زندگی میں جو چاہیں حاصل کر لیں
بس اتنا خیال رکھیں کہ آپ کی منزل کا راستہ کبھی لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہوا نہ گزرے
کچھ لوگ زندگی ہوتے ہیں
مگر زندگی میں نہیں ہوتے
تم پاس تھے ہمارے یہ ہم ساتھ تھے تمہارے
وہ زندگی کے کچھ پل یہ زندگی تھی کچھ پل
اے زندگی تو مجھے کیوں خفا رہتی ہے
ہر پھول سے خوشبو بھی تو جدا رہتی ہے
آج وہ دن کبھی وہ دن بھی تھا
جب میری رگ رگ میں وفا رہتی تھی
زندگی تیرے تعاقب میں یہ لوگ اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
زندگی بھی کتنی عجیب ہوتی ہے
کبھی ڈوبتے سورج کی طرح کبھی چمکتے چاند کی طرح
تنہا ہی جینا ہے تنہا ہی مرنا ہے
کوئی کسی کا نہیں ہوتا یہ تجربہ اسی زندگی میں کرنا ہے
اے زندگی جتنی مرضی تلخیاں بڑھا
وعدہ ہے تجھے ہنس کر گزاریں گے
ہر سبق لکھنے کے لیے زندگی میں ایک حادثے کا ہونا ضروری ہے
پڑھی ہیں یوں تو کتابیں ہزاروں مگر
حقیقت میں جو سبق ملے اپنی زندگی سے ملے
کیا غم ہے کیا خوشی معلوم نہیں وہ اپنا ہے
کہ اجنبی معلوم نہیں جس کے بغیر گزرتا نہیں اک پل
کیسے گزرے گی یہ زندگی معلوم نہیں
زندگی میں جو بھی ملا سبق دے گیا
ہر شخص میرا استاد نکلا
کیا کہوں زندگی کے بارے میں
ایک تماشہ تھا عمر بھر دیکھا
پھول بن کر مسکرانا زندگی ہے
مسکرا کے غم بھلانا زندگی ہے
جیت کر کوئی خوش ہو تو کیا ہوا
ہار کر خوشیاں منانا بھی زندگی ہے
میری زندگی مجھے یہ بتا مجھے بھول کر تجھے کیا ملا
میری حسرتوں کا حساب دے دل توڑ کر تجھے کیا ملا
دو پل کی زندگی یوں ہی بیت جائے گی
کالی رات کے بعد نئ صبح آئے گی
اگر دوستوں کی یاد ستائے گی
تو قسم سے آپ کی یاد سب سے پہلے آئے گی
زندگی جینی ہے تو آگے دیکھیں
زندگی کو سمجھنا ہے تو پیچھے دیکھیں
آبیٹھ میرے سامنے تجھ سے کلام کروں
لفظ ایک نہ بولوں زندگی تیرے نام کروں
اتنے غور سے نہ دیکھ میری حال زندگی کو
بکھرے ہوئے لوگ اکثر اسی حال میں ہوتے ہیں
تمہارا اک پل کا ساتھ خریدنے کے لیے
تھوڑی تھوڑی زندگی روز بیچتے ہیں ہم
غلطی زندگی کا ایک ورق ہے لیکن رشتہ پوری کتاب ہے کبھی بھی ایک ورق کے لیے کبھی بھی پوری کتاب کو ضائع نہ کرنا
مجھے تیرا ساتھ زندگی بھر نہیں چاہیے
بلکہ جب تک ساتھ ہے تب تک زندگی چاہیے
زندگی کی اداس راہوں میں ایک نئے عزم کی ضرورت ہے
حوصلہ ہو اگر انساں میں تو غم کا ہر موڑ خوبصورت ہے
کوئی صلح کرا دے زندگی کی الجھنوں سے
بڑی طلب ہے ہمیں بھی آج مسکرانے کی
کسی کی زندگی میں اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا
اس کی قبر پر فاتحہ پڑنے سے ہزار درجے بہتر ہے
اکثر کتابوں کے صفحے پلٹ کر سوچتا ہوں میں
اے کاش پلٹ جائے یوں زندگی تو کیا بات ہے
زندگی کو ہمیشہ مسکرا کر گزارو
کیونکہ تم نہیں جانتے یہ کتنی باقی ہے
زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی زندگی کو آسان بنایا جاتا ہے
پیار سے خلوص سے اپنائیت سے اور سب سے بڑھ کے برداشت سے
بہت جلدی سیکھ لیتا ہوں زندگی کا سبق
غریب کا بچہ ہوں ہر بات پہ ضد نہیں کرتا
زندگی کے ہیں دو جہاں
ایک یہ جہاں ایک وہ جہاں
اس کے درمیان فاصلہ ایک سانس کا
جو چلتی رہیں تو یہ جہاں جو رک جائے تو وہ جہاں
زندگی کٹھن ہی سہی لیکن
گزارا کیجیے گزار دیجئے
سوچنا آسان ہے اور عمل کرنا مشکل ہے
لیکن سب سے مشکل زندگی میں اپنی سوچ کے مطابق عمل کرنا ہے
کیونکہ جو ہم سوچتے ہیں وہ کر نہیں پاتے
زندگی جا چھوڑ دے پيچھا ميرا
أخر ميں انسان ہوں پتھر تو نہيں
کچھ لوگوں کے لئے مصروف زندگی سے ٹائم نکالنا پڑتا ہے اور کچھ لوگوں کو دل سے نکالنے کے لیے زندگی کو مصروف کرنا پڑتا ہے
کبھی راضی تو کبھی مجھ سے خفا لگتی ہے
بتا اے زندگی! تو میری کیا لگتی ہے
روز روتے ہوئے کہتی ہے زندگی مجھ سے
صرف اک شخص کی خاطر مجھے برباد نہ کر
یہ زندگی بھی عجیب ہے نا صاحب
اک دن مرنے کے لیے پوری زندگی جینی پڑتی ہیے؟
کبھی تو ختم ہوں گی یہ اداسیاں یہ تنہائیاں
اک دن تو اچھا ہو گا چار دن کی زندگی میں؟
یہ زندگی الجھے گی نہیں تو سلجھے گی کیسے
یہ زندگی بکھرے گی نہیں تو نکھرے گی کیسے
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے
جتنا سلجھاو گے اتنی ہی الجھ جائے گی
یہ زندگی ہے کوئی زلف نہیں جو سنور جائے گی
موت بر حق ہے لیکن
مرنے تک تو جینے دو
زندگی میں دو چیزیں ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہیں
سانسیں اور ساتھ
سانسیں ٹوٹنے سے انسان ایک بار مر جاتا ہے
اور ساتھ ٹوٹنے سے انسان بار بار مرتا ہے
مسکراہٹ خوب صورتی کی علامت ہے
اور خوب صورتی زندگی کی علامت ہے
یاد رہے گا ہمیشہ یہ دورحیات کا موسم
کہ خوب ترسے تھے زندگی میں اک شخص کی خاطر
زندگی کا سفر تو بس اتنا سے ہے
آتے ہوئے آذان ہوئی تھی اور جاتے ہوئے نماز
زندگی میں ایسے بھی مقام آئے
نا دیا ساتھ اپنوں نے نہ غیر کام آئے
تمام عمر تجھے زندگی کا پیار ملے
خدا کرے کہ خوشی تم کو بار بار ملے
زندگی ایک کرایہ کا گھر اس کو بدلنا پڑے گا
موت جب آواز دے گی اس گھر سے نکلنا پڑے گا
مجھے زندگی کی سچائی تب پتا چلی
جب راستہ میں پڑے ہوئے پھولوں نے مجھ سے کہا
دوسروں کو خوشبو دینے والے یوں ہی کچل دے جاتے ہیں
وہی حسرتیں وہی رنجیشیں نہ درد دل میں کمی ہوئی
عجب سی ھے میری ذندگی نہ گزر سکی نہ ختم ہوئی
کوشش کریں زندگی کا ہر لمحہ
کسی کے ساتھ اچھے سے اچھا گزرے
کیونکہ زندگی نہیں رہتی
لکین اچھی یادیں ہمیشہ رہتی ہیں
_غلطیاں بھی ہونگی غلط بھی سمجھا جائے گا💯
یہ زندگی ہے صاحب..🌎
"-_تعریفیں بھی ہونگی اور ذلیل بھی کیا جائے گا✌️💔
دنیا کا بوجھ اپنے دل سے اُتار دو
چھوٹی سی زندگی ہے ہنس کر گزار دو
دنیاں کے ائےمسافر منزل تیری قبر ہے
طے کررہا ہے جو تو دو دن کا وہ سفر ہے
زندگی کو خوشگوار بنانے کیلئے ایک چھوٹا سا اصول اپنائیں۔
روزانہ کچھ اچھا یاد رکھیں ـ کچھ برا بھول جائیں ـ
قدم قدم پر امتحان لیتی ہے۔ زندگی
ہر وقت نئے صدمے دیتی ہے زندگی
ہم زندگی سے شکوہ کرے بھی تو کیسے
آپ جیسے دوست بھی تو دیتی ہے زندگی
مجھے سکول کا بستہ پھر سے تھما دو نا
ماں
زندگی کا سبق مجھے بہت مشکل لگتا ہے..💔😔
یہ زندگی بھی نہ جانے کتنے موڑ دیتی ہے
ہر موڑ پر ایک نیا سوال دیتی ہے
ڈھونڈتے رہتے ہیں ہم جواب زندگی بھر
جواب مل جائے تو وہ سوال بدل دیتی ہے
زندگی آخر ہم کو اتنا رلاتی کیوں ہے
مجھ بدنصیب سے آخر تو چاہتی کیا ہے
میری زندگی میں رہو گے تم عمر بھر
اب چاہے پیار بن کر یا درد بن کر
بات لطیفوں سے وظیفوں تک آ پہنچی ہے
زندگی ہمیں کہاں سے کہاں لے آئی ہے ♥♠😑
یہ زندگی تو بس سکوں کے گرد گومتی ہے
جہاں بھی مل جائے وہی ختم ہو جاتی ہے
کچھ رحم کر اے زندگی تھوڑا سنور جانے دے
تیرا اگلا زخم بھی سہ لینگے
پہلے والا تو بھر جانے دے
درد ہلکا سانس بھاری ہے.
جیئے جانے کی رسم جاری ہے
😘😘😘
زندگی ہنس کر جیو یا رو کر
گزارنی تو ہے مجبور ہو کر
زندگی کے دور میں تجربہ کچا ہی رہ گیا
ہم سیکھ نا پائے فریب اور دل بچہ ہی رہ گیا
زندگی تو سستی ہے
گزارنے کے طریقے مہنگے ہیں
سفر کا مزہ لینا ہو تو، ساتھ سامان کم رکھئے۔
اور زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل میں ارمان کم رکھئے۔
زندگی نے کچھ اس قدر ستایا ہے.
مختصر خوشی دے کر مستقل رلایا ہے
پانی سے تصویر کہا بنتی ہے
خوابوں سے تقدیر کہاں بنتی ہے
کسی سے دوستی کرو تو سچےدل سے
کیونکہ زندگی پھر کہاں ملتی ہے
زندگی کا ہر زخم اس کی مہربانی ہے
اپنی زندگی بھی اک ادھوری کہانی ہے
مٹا دیتا اس کا ہر درد سینے سے مگر
یہ درد ہی تو اس کی آخری نشانی ہے ۔
زندگی سے تھوڑی وفا کیجیے
جو نہیں ملتا اسے دفع کیجیے
زندگی بدلنے کے لیے لڑنا پڑتا ہے
اور آسان کرنے کے سمجھنا پڑتا ہے
وقت آپ کا ہے چاہو تو سونا بنا لو
اور چاہوں تو سونے میں گزار دو
آہستہ چل اے زندگی کئی قرض چکانا باقی ہے
کچھ درد مٹانا باقی ہے کچھ فرض نبھانا باقی ہے
بدلہ وفا کہ دینگے بڑی سادگی سے ہم
تم ہم سے روٹھ جاو گے اور زندگی سے ہم
کچھ زیادہ خواہش نہیی اے زندگی تجھ سے ۔۔۔۔
بس میرا اگلا قدم پچھلے سے بہتر ہو۔۔۔۔۔